آن لائن بنکنگ کا دشمن وائر

                                                                                                                                                                      انٹرنیٹ سکیورٹی کے ماہرین نے آن

 لائن بنکنگ کرنے والے انٹرنیٹ صارفین کو ایک ایسے خطرناک وائرس کے بارے میں خبردار کیا ہے جو آن لائن بنک اکاؤنٹس کی لاگ ان تفصیلات چرا لیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف گزشتہ ماہ ’مبروٹ‘ نامی اس وائرس سے قریباً پانچ ہزار آن لائن بنک صارفین متاثر ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر یورپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

متاثر ہونے والے زیادہ افراد ایسی ویب سائٹس کا شکار ہوئے جو مائیکرو سافٹ کے براؤزر نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوڈ انسٹال کر دیتی ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وائرس اس لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ یہ اپنے آپ کو ونڈوز نظام میں چھپا لیتا ہے اور اسے تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔

’روٹ کٹ‘ قسم کا یہ وائرس کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک کے ماسٹر بوٹ ریکارڈ(MBR) کے کچھ حصہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ وہ حصہ ہے جہاں کمپیوٹر آن ہوتے ہوئے یہ معلومات تلاش کرتا ہے کہ اسے کونسا آپریٹنگ نظام چلانا ہے۔

سمینٹک بلاگ نامی سکیورٹی کمپنی کے ماہرالیا فلوریو کا کہنا ہے کہ’ اگر آپ ماسٹر بوٹ ریکارڈ کو کنٹرول کر سکتے ہیں تو آپ آپریٹنگ نظام اور اس کمپیوٹر کو جس پر یہ نظام چل رہا ہے کنٹرول کر سکتے ہیں‘۔

سمینٹک بلاگ کے مطابق مبروٹ نامی یہ وائرس انسٹال ہونے کے بعد’ کی لاگرز‘ جیسے دیگر خطرناک پروگرام بھی ڈاؤن لوڈ کر لیتا ہے جو خفیہ معلومات چرانے میں کام آتے ہیں۔ یہ پروگرام اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب صارف آن لائن بنکنگ نظام میں داخل ہوتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مبروٹ وائرس روس سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے تیار کیا ہے اور اس قسم کے وائرس اندازاً دو لاکھ کمپیوٹروں پر موجود ہیں۔

سکیورٹی فرم ’آئی ڈیفینس‘ کا کہنا ہے کہ یہ وائرس اکتوبر میں سامنے آیا تھا لیکن اسے دسمبر کے اوائل میں مختلف حملوں میں پہلی بار استعمال کیا گیا۔ بارہ دسمبر سے سات جنوری کے عرصے میں’آئی ڈیفینس‘ نے ایسے پانچ ہزار سے زائد کمپیوٹروں کا جائزہ لیا جن میں یہ وائرس موجود تھا۔



About the Author

By Furqan Suleman