حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ بے نظیر کے قتل کے پیچھے القاعدہ کے ہاتھ کے شواہد موجود ہیں۔ کارل انڈرفرتھ امریکہ کے سابق نائب وزیرِ خارجہ ہیں۔ ان کا تجزیہ ہے کہ پاکستان میں انتہاپسند قوتیں طاقت پکڑ رہی ہیں: ’جس تعداد میں خودکش حملے ہو رہے ہیں، وہ پاکستان کی تاریخ کا حصہ نہیں تھے۔ اور یہ سب کچھ ایسے وقت ہو رہا ہے جب اس بات کی اطلاعات آ رہی ہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔ ‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان خود اسامہ بن لادن کی طرف سے حملوں کی زد میں ہے۔ اسامہ نے ستمبر میں ایک ٹیپ میں پاکستانیوں پر زور دیا تھا کہ وہ صدر مشرف اور ان کی حکومت اور ان کے حامیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔‘ کرسٹین فیئر RAND کارپوریشن میں پاکستانی امور کی ماہر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قتل سے مذہبی عسکریت پسندوں کو تقویت ملے گی: ’پاکستان میں عام طور پر عسکریت پسندوں کو پکڑا نہیں جاتا، جس کی وجہ سے انھوں نے حملوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے اور زیادہ سے زیادہ خودکش حملے کر رہے ہیں۔ اور اب وہ صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ پورے پاکستان میں بے خوف و خطر سرگرم ہیں۔ ان حملوں کے بعد عسکریت پسند مزید دلیر ہو جائیں گے اور پاکستانی حکومت کے اہم ارکان اور دوسرے ایسے لوگوں کو نشانہ بناتے رہیں گے جنھیں وہ اپنا مخالف سمجھتے ہیں۔‘ کارل انڈرفرتھ نے کہا کہ بے نظیر کی موت سے ملک کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں: ’اس سے اور زیادہ بے یقینی پھیلے گی، خاص طور پر ایسے حالات میں جب ملک جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت سے سیاسی حکومت کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے اور آٹھ جنوری کو عام انتخابات ہو رہے ہیں۔‘ انڈرفرتھ مزید کہتے ہیں کہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ انتخابات ایسے حالات میں منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ انھیں اس وقت تک ملتوی کر دیا جائے جب تک اس الم ناک سانحے کے بعد سیاسی صورتِ حال معمول پر نہیں آ جاتی۔‘ RAND کارپوریشن کی کرسٹین فیئر کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کو آنے والے دنوں اور ہفتوں میں مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے: ’اگر صدر مشرف اگر اپنے آپ کو سیاسی طور پر مستحکم نہیں کر لیتے تو انھیں بتدریج بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جو نہ صرف پاکستانی معاشرے کی طرف سے آئے گا بلکہ فوج کی طرف سے بھی۔ اور شاید یہ ملک کے لیے بہتر ہوگا اگر مشرف اپنے عہدے سے دست بردار ہو جائیں۔‘ لیکن فیئر کہتی ہیں کہ ’ظاہر ہے کہ اگر ایسا ہوا تو دنیا کے تمام ملک جن کا پاکستان سے واسطہ ہے، ایک عجیب کش مکش میں گرفتار ہو جائیں گے، کیوں کہ ان کے پاس صدر مشرف کے اقتدار سے باہر ہونے کی امکانی صورت سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔‘ ماہرین کہتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد بہت سے ممالک مجبور ہو جائیں گے کہ پاکستان اور صدر مشرف کے بارے میں اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی لائیں
http://www.voanews.com/urdu/2007-12-28-voa21.cfm